’وہ مجھے کمرہ بند کر کے بیلٹ سے مارتا رہا‘
انڈیا میں ہر پانچ منٹ بعد گھریلو تشدد کا ایک واقع رپورٹ ہوتا ہے جسے
قانونی طور پر شوہر اور اس کے رشتہ داروں کا ظلم کہا جاتا ہے۔ بی بی سی نے اس کی شکار خواتین کی گواہیاں اور اس جرم کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔
’میرے شوہر نے کمرے میں داخل ہو کر دروازے پر چٹخنی لگا دی۔ اس نے موسیقی تیز کی تاکہ باہر کوئی ہماری آواز نہ سن سکے۔ اس کے بعد اس نے بیلٹ اتاری اور مجھے مارنا شروع کر دیا۔ وہ مجھے اگلے 30 منٹ تک مارتا رہا۔‘
ادتی (یہ اس کا حقیقی نام نہیں) انڈیا کی ان لاکھوں عورتوں میں سے ایک ہیں جو گھریلو تشدد کا شکار ہوئی ہیں۔
’جب وہ یہ کر رہا تو اس نے مجھے کہا کہ میں کوئی آواز نہ نکالوں، مجھے رونا نہ آئے، میں نہ چیخوں، کیونکہ اگر میں نے ایسا کیا تو وہ مجھے اور زور سے مارے گا۔ وہ مجھے اپنی بیلٹ اور اپنے ہاتھوں سے مار رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے میرا گلا دبانا شروع کر دیا۔ وہ بہت غصے میں تھا۔‘
ادتی کے مطابق یہ واقع اس وقت پیش آیا جب وہ صرف 19 برس کی تھیں اور ان کی شادی کو ابھی ایک ہی سال ہوا تھا جس میں دنیا کے کئی حصوں سے لوگ نئے شادی شدہ جوڑے کو دعائیں دینے کے لیے آئے تھے۔
وہ کچھ ماہ پہلے ایک دوست کے ذریعے اپنے ہونے والے شوہر سے ملی تھیں۔ شروع شروع میں اس کا رویہ بہت ’قابلِ تعریف، کرشماتی اور دوستانہ تھا۔‘ لیکن جلد ہی یہ سب کچھ بدل گیا۔
ادتی کا کہنا ہے کہ ’اس کے بعد وہ بے پرواہ ہو گیا اور مجھے گالیاں دینے لگا۔ کیونکہ میرا باپ بھی ایک شرابی تھا اور میری ماں کے ساتھ برا سلوک کرتا تھا، سو میں نے سوچا کہ یہ بھی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ میں نے سوچا کہ شاید حالات بہتر ہو جائیں۔‘
لیکن وہ مزید خراب ہوتے چلے گئے۔
’یہ برا برتاؤ برسوں جاری رہا اور میں نے سوچا اگر جو وہ کہے میں وہ ہی کروں تو شاید حالات بہتر ہو جائیں، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وہ ہمیشہ مجھ میں خرابیاں ڈھونڈنے کی کوئی نہ کوئی وجہ تلاش کر لیتا۔ اسے کسی بھی بات پر غصہ آ جاتا۔‘
ادتی اس جہنم میں 2012 تک رہیں اور پھر اپنی شادی کے ٹھیک چھ سال بعد ایک دن ایک دوست کی مدد سے وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئیں۔
آج انھوں نے اپنا ماضی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وہ ایک غیر سرکاری تنظیم میں نوکری کر کے اپنی زندگی ازسرِ نو تعمیر کر رہی ہیں۔
لیکن ادتی کا کیس کوئی منفرد کیس نہیں۔
جب سے دسمبر 2012 میں دلی کی ایک بس میں 23 سالہ لڑکی کا ریپ اور قتل ہوا ہے انڈیا میں ریپ کے کیسز پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ لیکن اگر جرائم کے ڈیٹا کو دیکھا جائے تو گذشتہ دس برسوں میں لگاتار ہر برس ملک میں عورتوں کے خلاف ہونے والے پرتشدد جرائم میں گھریلو تشدد سب سے زیادہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
اور ہر سال ان جرائم کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
اس کے خلاف مہم چلانے والے کہتے ہیں کہ ایسا عورتوں میں آگہی اور اس جرم کی زیادہ رپورٹنگ کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں یہ زیادہ رپورٹ ہوا ہے جہاں عورتیں تعلیم یافتہ ہیں اور اپنی بات کا اظہار کر سکتی ہیں۔ یہ ان علاقوں میں بھی زیادہ ہے جہاں پولیس اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں زیادہ سرگرم ہیں۔
دلی میں عورتوں کے خلاف جرائم کے سیل میں کام کرنے والی سینیئر پولیس افسر ورشا شرما کہتی ہیں کہ ’یہ اچھی چیز ہے کہ کیسز کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ عورتوں نے خاموشی سے ظلم سہنے سے انکار کر دیا ہے۔‘
سنہ 2003 میں گھریلو تشدد کے 50,703 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جو 2013 میں بڑھ کر 118,866 تک پہنچ گئے ہیں جو کہ دس برسوں میں 134 فیصد اضافہ ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم رکن کہتے ہیں کہ یہ اس لیے ہے کہ 2005 میں انڈیا کی حکومت نے گھریلو تشدد سے عورتوں کے تحفظ کے لیے ایک نیا قانون متعارف کرایا تھا جس کی وجہ سے اب زیادہ سے زیادہ عورتیں مدد کے لیے آ رہی ہیں۔
شرما کہتی ہیں کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب تشدد نہیں ہوتا۔ ’تشدد ہمیشہ ہوتا ہے لیکن اب اس کی زیادہ رپورٹنگ ہوتی ہے۔‘
خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ایک تنظیم میئتری سے وابستہ وکیل مونیکا جوشی کہتی ہیں کہ ابھی بھی بہت سے کیس رپورٹ نہیں کیے جاتے۔
’ہر اس عورت کے پیچھے جو شکایت کرتی ہے، ایک ایسی عورت بھی ہے جو چپ چاپ ظلم سہہ رہی ہے۔ اکثر عورتیں تو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی نہیں بتاتیں کہ ان کا شوہر ان کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے۔‘
جنوبی شہر وجیاوادا میں سنہ 2013 میں گھریلو تشدد کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
شہر میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم وسویا مہیلا منڈالی کی راشمی سمارام کہتی ہیں کہ ان کے کونسلنگ سینٹر میں روزانہ تین سے چار کیسز آتے ہیں۔
لیکن دلی میں سرگرم کارکن راشمی انند کہتی ہیں کہ شیلٹر ہومز میں کمی کی وجہ سے ملک کے دوسرے حصوں میں خواتین گھریلو تشدد سہتی رہتی ہیں۔
معاشرتی دباؤ بھی ایک عنصر ہے۔یہ معاشرتی رسوائی کا خوف اور یہ سوچ کہ ’دوسرے کیا کہیں گے‘ ہی ہے جس کی وجہ سے سنیتا (اصل نام نہیں) اپنے شوہر کے ظلم سہتی رہیں۔
اس نے شادی کے تین روز بعد ہی انھیں پیٹنا شروع کر دیا تھا۔
’اس نے مجھے اپنی کہنی ماری اور میں بستر سے گر گئی۔ مجھے بری طرح چوٹ آئی۔ میں ساری رات روتی رہی، اس نے مجھے مڑ کر بھی دیکھنا گوارا نہیں کیا۔ اس نے مجھ سے معافی تک نہیں مانگی۔‘
سنیتا اقتصادی طور پر ایک آزاد خاتون ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’اس زیادتی اور پٹائی کو اس لیے برداشت کرتی رہی کہ انڈیا میں اگر عورت طلاق لے یا دوبارہ شادی کرے تو اسے پسند نہیں جاتا۔ لوگ اسے تحقیر سے دیکھتے ہیں۔‘
لیکن آخر کب تک برداشت کیا جائے۔ شادی کے چار ماہ بعد سنیتا نے اپنے شوہر کو چھوڑ دیا اور اپنے والدین کے ساتھ جا کر رہنے لگیں۔
گھریلو تشدد صرف انڈیا میں ہی نہیں ہوتا۔ یہ پوری دنیا میں میں ہوتا ہے، لیکن جو چیز اسے دوسرے ممالک سے مختلف بناتی ہے وہ یہاں اس تشدد پر چپ رہنے کا کلچر ہے۔
وہ مجھے کمرہ بند کر کے بیلٹ سے مارتا رہا
on
اکتوبر 29, 2014

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں