انتظار کرتے رہ گئے، سپیکر نہیں آئے: شاہ محمود قریشی
پاکستان تحریک انصاف کے اراکینِ قومی اسمبلی کے استعفوں کی تصدیق کا معاملہ ایک مرتبہ پھر لٹک گیا ہے۔
سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے مستعفی ہونے والے اراکین کو بدھ کی دوپہر طلب کیا تھا تاہم ان کی سپیکر سے ملاقات نہیں ہو سکی۔
بدھ کی شام قومی اسمبلی کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپیکر کی ہدایات کے مطابق پی ٹی آئی کے اراکین اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے ان کے چیمبر میں مقررہ وقت پر پیش ہوئے تاہم انتظار کے باوجود سپیکر نے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔
انھوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اراکین کو سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کے لیے ڈھائی گھنٹے انتظار کروایا گیا: ’ڈپٹی سپیکر کے ذریعے سپیکر اسمبلی کو پیغام بھجوایا اور ہمیں انتظار کرنے کو کہا اور پھر جواب نہیں دیا گیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکر نےشام سوا چار بجے تک انتظار کرنے کو کہا تاہم بعد یہ بتایا گیا کہ سپیکر نماز پڑھ رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’انتظار کیا اور انتظار کرنے کے بعد ہم آگئے ہیں اور ڈپٹی سپیکر اور اسمبلی کے عملے کے سامنے سرکاری کیمرے پر فرداً فرداً تمام ممبران نے استعفوں کی تصدیق کر دی ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر سپیکر چاہتے ہیں تو وہ فرداً فرداً تمام مستعفی اراکین سے استعفوں کی تصدیق کروا سکتے تھے۔
پارٹی کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے واضح کیا کہ اگر سپیکر نے استعفے مسترد کر دیے تو بھی پی ٹی آئی اسمبلی میں نہیں جائے گی۔
پی ٹی آئی کے رہنما نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے ہمراہ 27 اراکین موجود ہیں اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی جگہ وہ خود آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 34 منتخب اراکین میں سے چار نے پی ٹی آئی کا ساتھ چھوڑ دیا تھا جبکہ آج تین اراکین ہمارے ہمراہ موجود نہیں ہیں اور سپیکر اسمبلی انہیں بعد میں بلوا سکتے ہیں۔
دوسری جانب سے پاکستان کے سرکاری میڈیا نے ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کے حوالے سے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین کو دیے گئے نوٹس میں ہدایت کی گئی تھی ہے کہ وہ انفرادی حیثیت میں سپیکر قومی اسمبلی سے اپنے استعفوں کی تصدیق کروائیں۔
اس سے قبل پی ٹی آئی کی ترجمان شیریں مزیری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ ڈپٹی سپیکر کو تحریک انصاف کے تمام اراکین نے انفرادی طور پر اپنے استعفوں کی تصدیق کروا دی ہے۔
’ڈپٹی سپیکر دوبارہ آئے اور ہم سب سے باری باری اپنے استعفوں کی تصدیق کی، ہم نے انپی مرضی سے استعفے دیے ہیں اور ہمارے دستخط اصلی ہیں۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے 24 اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف کے 33 میں سے 25 اراکین قومی اسمبلی کو ان کے استعفوں کی تصدیق کے نوٹس بھجوایا تھا۔
نوٹس میں کہا گیا تھا کہ پارٹی کے رہنما شاہ محمود قریشی کے مطالبے کے مطابق پی ٹی آئی کے ارکان ایک ہی روز سپیکر کے پاس آ سکتے ہیں۔ تاہم ضابطے کے تحت انھیں استعفوں کی تصدیق کے لیے سپیکر سے الگ الگ ملاقات کرنی ہوگی۔
نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اگر 29 اکتوبر کی دوپہر دو بجے پی ٹی آئی کے اراکین سپیکر سے ملاقات کے لیے نہ پہنچے تو یہ سمجھا جائے گا کہ ’وہ اپنے استعفوں کی قانونی اور شفاف طریقے سے تصدیق کے خواہاں نہیں ہیں ۔‘
نوٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ ایسی صورتحال میں سپیکر اسمبلی قانونی طور پر اس حیثیت میں نہیں ہوں گے کہ وہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کے مستعفی ہونے کی تصدیق کر سکیں۔
تحریک انصاف نے بائیس اگست کو اپنے ارکان قومی اسمبلی کے استعفے اجتماعی طور پر اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں جمع کرائے تھے مگر پارلیمانی ضابطوں کے تحت ان کی تصدیق کا عمل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اب تک منظور نہیں ہوسکے ہیں جس کی وجہ سے سپیکر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحریک انصاف کے موجودہ قومی اسمبلی میں کل 34 ارکان تھے جو مخدوم جاوید ہاشمی کے استعفے کے بعد 33 رہ گئے جن میں سے 4 نے پارٹی قیادت کے استعفے دینے کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا۔
پانچ ارکان کی جانب سے پیش کیے گئے استعفوں کو درست نہیں مانا گیا کیونکہ ان میں سپیکر کے بجائے پارٹی کے قائد عمران خان کو مخاطب کیا گیا تھا اس لیے سپیکر قومی اسمبلی نے باقی ماندہ 25 ارکان کو بدھ اپنے چیمبر میں طلب کیا تھا۔
انتظار کرتے رہ گئے، سپیکر نہیں آئے: شاہ محمود قریشی
on
اکتوبر 29, 2014

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں