603 رنز کے تعاقب میں 136رنز پر چار آوٹ
ابوظہبی میں کھیلے جانے والے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن 603 رنز کے تعاقب میں آسٹریلیا نے کھیل ختم ہونے پر 136 رنز بنائے تھے اور اس کے چار کھلاڑی آوٹ ہو چکے تھے۔
راجرز، میکسویل، کلارک اور وارنر آسٹریلیا کے آؤٹ ہونے والے چار کھلاڑی تھے۔ پاکستان کے سپنر ذوالفقار بابر نے راجرز، میکسویل اور کلارک کو آؤٹ کیا جبکہ چوتھے کھلاڑی ڈیویڈ وانر محمد حفیط کا شکار بنے۔
آسٹریلیا کی پہلی وکٹ 19 کے مجموعی سکور پر گری، دوسری وکٹ 31 رنز پر اور تیسری کپتان کلارک کی وکٹ 43 رنز پر۔ آسٹریلیا کی طرف سے وانر اچھا کھیل پیش کر رہے تھے اور انھوں نے نصف سنچری بھی سکور کی لیکن نصف سنچری کے بعد وہ محمد حفیظ کی ایک گیند پر یاسر شاہ کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے۔
کلارک کو ذوالفقار بابر نے بولڈ کیا جبکہ دوسرے دو کھلاڑی ان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔
قبل ازیں پاکستان نے مصباح کی ریکارڈ ساز بیٹنگ کی بدولت تین وکٹوں کے نقصان پر 293 رنز بنا کر اننگز ڈکلیئر کرتے ہوئے آسٹریلیا کو603 رنز کا ہدف دیا ہے۔
کپتان مصاح الحق نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے 57 گیندوں پر 11 چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے 101 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔مصباح نے سر ویون رچرڈز کا ٹسیٹ کرکٹ میں تیز ترین سنچری بنانے کا ریکارڈ برابر کر دیا۔
مصباح کے فوراً بعد اظہر علی نے چھ چوکوں کی مدد سے سنچری مکمل کی اور اس موقعے پر پاکستان نے اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کر دیا۔
سنیچر کو تیسرے دن کھیل ختم ہونے پر پاکستان کی دوسری اننگز میں اس کے دو کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔
اتوار کو چوتھے دن محمد یونس اور اظہر علی نے دوبارہ اننگز کا آغاز کیا اور یونس خان 46 رنز بنا کر سمتھ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد اظہر علی کے ساتھ کپتان مصباح الحق بیٹنگ کے لیے آئے ہیں۔
مصباح الحق نے آتے ہی جارحانہ انداز میں بیٹنگ شروع کی اور اپنی نصف سنچری صرف 21گیندوں پر مکمل کرلی جس میں چار چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔ کھانے کے وقفے کے بعد ہی مصباح نے جارحانہ انداز اپنائے رکھا اور یوں 57 گیندوں پر 101 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
اس سے پہلے جمعرات کو آسٹریلیا کی ٹیم پہلی اننگز میں 261 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔
آسٹریلیا کی پوری ٹیم کو 261 رنز پر آؤٹ کر کے پاکستان نے پہلی اننگز میں 309 رنز کی برتری حاصل کی تھی۔
پاکستان کی ٹیم نے آسٹریلیا کو فلو آن کرنے کے بجائے دوبارہ بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کی طرف سے احمد شہزاد اور محمد حفیظ نے بیٹنگ کا آغاز کیا لیکن پہلی وکٹ دوسرے ہی اوور میں صرف 16 کے مجموعی سکور پر گر گئی۔احمد شہزاد کو مچل جانسن نے بولڈ کر دیا۔ احمد شہزاد نے اسی اوور میں جانسن کو دو چوکے اور ایک چھکا لگایا اور اوور کی آخری گیند پر بولڈ ہو گئے۔
پاکستان کی دوسری وکٹ 21 کے سکور پر گری جب جانسن نے ایک شارٹ گیند پر حفیظ کو کیچ آؤٹ کر دیا۔آسٹریلیا کی اننگز میں نوجوان کھلاڑی مچل مارش نمایاں رہے انھوں نے 87 رنز سکور کیے۔ ان کے علاوہ کپتان کلارک نے 47 رنز بنائے۔
پاکستان کے تیز رفتار بولر عمران خان نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن آغاز سے ہی مشکل کا شکار رہی اور اس کی نصف ٹیم صرف 100 رنز پر پولین واپس ہو چکی تھی۔
دوسرے دن یونس خان کی ڈبل سنچری اور مصباح الحق کی سنچری کی بدولت پاکستان نے چھ وکٹوں کے نقصان پر 570 رنز پر اننگز ڈیکلیئر کر دی تھی اور اوپنر کرس راجرز کی وکٹ لینے میں بھی کامیابی حاصل کر لی تھی۔مصباح الحق اور یونس خان کے درمیان 181 رنز کی شراکت ہوئی۔
یونس خان نے اپنی ڈبل سنچری میں انھوں نے چودہ چوکے اور دو چھکے لگائے اور اس دوران انھوں نے 334۔گیندوں کو سامنا کیا۔
دوسرے دن کھیل کے اختتام پر ڈیوڈ وارنر کے ساتھ نیتھن لیون کھیل رہے تھے اور ٹیم کا سکور ایک وکٹ کے نقصان 22 رنز تھا۔
اس سے قبل میچ کے پہلے دن یونس خان اور اظہر علی نے ایک سست اور کم باؤنس والی وکٹ پر آسٹریلوی بالروں کے حوصلے خوب پست کیے۔ یونس خان سیریز میں مسلسل تیسری سنچری بنا کر آسٹریلوی بولنگ پر پھر برسے جبکہ اظہرعلی نے اپنے کرئیر کی چھٹی سنچری سکور کی۔
پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان نے دو وکٹوں پر 304 رنز بنائے تھے۔ یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل تین اننگز میں سنچریاں بنانے والے چوتھے پاکستانی بیٹسمین بھی بن گئے۔ ان سے قبل ظہیرعباس، مدثرنذر اور محمد یوسف نے ٹیسٹ کرکٹ میں لگاتار تین اننگز میں سنچریاں بنا رکھی ہیں۔
یونس خان 90 سال کے عرصے کے بعد آسٹریلیا کے خلاف مسلسل تین سنچریاں سکور کرنے والے پہلے بیٹسمین بن گئے ہیں۔ ان سے قبل انگلینڈ کے ہربرٹ سٹکلف نے 25-1924 میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔
پاکستانی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے: مصباح الحق (کپتان)، احمد شہزاد، محمد حفیظ، اظہرعلی، یونس خان، اسد شفیق، سرفراز احمد، ذوالفقار بابر، یاسرشاہ، عمران خان اور راحت علی۔
آسٹریلوی ٹیم میں یہ کھلاڑی شامل ہیں: مائیکل کلارک (کپتان) کرس راجرز، ڈیوڈ وارنر، گلین میکسویل، سٹیو سمتھ، مچل مارش، بریڈ ہیڈن، مچل جانسن، پیٹر سڈل، مچل سٹارک اور نیتھن لیون۔
603 رنز کے تعاقب میں 136رنز پر چار آوٹ
on
نومبر 02, 2014

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں