روس کے پرینک کالر یعنی جعلی کالر نے کہا ہے کہ اس نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر روسی صدر ولادمیر پوتن بن کر مشہور برطانوی گلوکار سر ایلٹن جان کو فون کیا اور ہم جنس پرستی کے بارے میں بات کی۔
ولادیمیر کراسنوو جو وون کے نام سے جانے جاتے ہیں نے کہا ’وہ واقعے سمجھے کہ وہ پیوتن ہی سے بات کر رہے تھے۔‘
سر ایلٹن جان جنھوں نے صدر پیوتن کو ہم جنس پرستوں کے حوالے سے ان کے موقف کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن بعد میں ان کی تعریف کی۔
تاہم کریملن نے سختی سے اس خبر کی تردید کی تھی کہ صدر پیوتن نے سر ایلٹن جان سے رابطہ کیا ہے اور کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ جعلی فون گیا ہو۔
وون نے اب اس فون کال میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ انھوں نے بی بی سی اور روسی اخبار کو بتایا کہ انھوں نے اپنے ساتھی جو ’ایلیکسی‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں کے ساتھ مل کر یہ فون کال کی تھی۔
’ایلکسی کی انگریزی بہت اچھی ہے اس لیے وہ صدارتی پریس سیکریٹری بنے اور مترجم کا کام کیا۔‘
انھوں نے مزید کہا ایلٹن جان لندن میں ریکارڈنگ سٹوڈیو میں موجود تھے اور ’معلوم ہوا کہ ایلٹن جان واقعی فون کال کی توقع کر رہے تھے اور اسی لیے وہ اس کال کو سچ سمجھ بیٹھے۔‘
ووون نے کہا کہا ایلٹن جان نے کہا ’شکریہ آپ نے میرا دن خوشگوار بنا دیا۔ یہ دن اور یہ گفتگو میری زندگی کے بہترین مواقع میں سے ہیں۔‘
وون نے کہا کہ اس پرینک کال کا کچھ حصہ روس کے ریاستی ٹی وی پر بدھ کو چلایا جائے گا۔
’ایلٹن جان واقعی سمجھے کہ وہ پوتن ہی سے بات کر رہے تھے‘
on
ستمبر 17, 2015

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں