Search

پاکستان میں مردم شماری موخر کرنے کا فیصلہ 29/02/2016

پاکستان میں مردم شماری موخر کرنے کا فیصلہ

Image captionپاکستان میں مردم شماری کی نئی تاریخ کا اعلان تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا
پاکستان میں حکومت نے ملک میں جاری سکیورٹی آپریشنز کی وجہ سے مردم شماری کا عمل موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ پیر کو وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف کی صدارت میں منعقدہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔
اس سلسلے میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ مردم شماری کی نئی تاریخ کا اعلان تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق ملک میں جاری سکیورٹی آپریشنز اور فوج کی مصروفیات کی وجہ سے ماضی میں دی گئی تاریخ پر مردم شماری کروانا ممکن نہیں ہوگا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی حکومت نے گذشتہ سال یہ اعلان کیا تھا کہ مارچ 2016 میں ملک میں مردم شماری اور خانہ شماری فوج کی نگرانی میں کروائی جائے گی۔
اس سے قبل ملک میں پانچ مرتبہ آبادی کا تخمینہ لگانے کے لیے مردم شماری کروائی گئی ہے۔ پاکستان میں آخری مردم شماری سنہ 1998 میں ہوئی تھی۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بعض بلوچ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے پہلے ہی مجوزہ مردم شماری پر تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔
رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بعض بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کے درمیان یہ بات ہمیشہ متنازع رہی ہے کہ بلوچستان میں کون اکثریت میں ہے۔
ماضی میں جو مردم شماریاں ہوئیں انھیں پشتون قوم پرستوں نے تسلیم نہیں کیا جبکہ اس مرتبہ بلوچ قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ سازگار حالات کے بغیر مردم شماری ہوئی تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔
بلوچ قوم پرستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین بھی آباد ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد نے پاکستانی شہریت کی دستاویزات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔

پاکستان میں مردم شماری موخر کرنے کا فیصلہ 29/02/2016 پاکستان میں مردم شماری موخر کرنے کا فیصلہ 29/02/2016 on فروری 29, 2016

کوئی تبصرے نہیں: