الیکشن کالعدم قرار دینے کی درخواستیں مسترد
پاکستان کی سپریم کورٹ نے سنہ 2013 کے عام انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق دائر تین درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔
بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔
بینچ نے سماعت کے دوران کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 225 میں کہا گیا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی سے متعلق جتنی بھی شکایات ہیں وہ الیکشن ٹربیونلز میں جائیں گی۔
بینچ کے مطابق آئین کی پاسداری کرنا سپریم کورٹ کی اولین ذمہ داری ہے اور آئین کو کسی بھی طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
بینچ نے درخواستوں پر یہ اعتراض بھی کیا کہ ان میں اراکین پارلیمان کو فریق نہیں بنایا گیا ہے اور اراکین کا موقف سنیں بغیر الیکشن سے متعلق اتنا بڑا فیصلہ کیسے دیا جا سکتا ہے۔
درخواست گزاروں میں سپریم کورٹ کے سابق جج محمود اختر شاہد صدیقی بھی شامل تھے۔
پاکستان میں عام انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات اور ان کی شفافیت پر ہمیشہ سے ہی سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
سنہ 2013 کے عام انتخابات ایک سال بعد 2014 میں اس وقت متنازع بن گئے جب انتخابات میں تیسری پوزیشن پر آنے والی اور صوبہ خیبر پختونخوا میں حکمراں جماعت تحریک انصاف نے انتخابات کے خلاف احتجاجی مہم شروع کی۔
اس وقت بھی تحریک انصاف کا احتجاجی دھرنا 15 اگست کی رات سے اسلام آباد میں موجود ہے جو مبینہ انتخابی دھاندلی پر وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
وزیر اعظم نے ان احتجاجی مظاہروں کے بعد اگست میں ہی قوم سے ٹی وی پر خطاب میں انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم تاحال یہ کمیشن تشکیل نہیں دیا جا سکا ہے۔
الیکشن کالعدم قرار دینے کی درخواستیں مسترد
on
اکتوبر 29, 2014

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں