شمالی وزیرستان سے شدت پسندوں نے افغان علاقوں میں پناہ لی ہے
پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے بھاگ جانے والے شدت پسندوں نے سرحد پار افغان علاقوں میں پناہ لی ہے جہاں سے پاکستان کے علاقوں پر حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔
پشاور میں بدھ کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے فوج کے شبعۂ تعلقات عامہ آئی ایس پر آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ دہشت گردوں پر ہر طرف کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ان کا خاتمہ کر کے رہیں گے۔
انھوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں منصوبے کے مطابق آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اور ایجنسی کے بیشتر مقامات عسکریت پسندوں سے صاف کیے جا چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس موقعے پر وہ ٹائم فریم نہیں دے سکتے کہ شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسیوں میں آپریشن کب تک جاری رہے گا تاہم کارروائی اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک دونوں علاقے مکمل طور پر صاف نہیں کیے جاتے۔
میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر ون بھی اس لیے شروع کیا گیا کیونکہ وزیرستان سے بھاگ جانے والے عسکریت پسند یہاں پناہ لے رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ خیبر ون کے وجہ سے پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں شدت پسندوں کی کارروائیوں میں کافی حد تک کمی آ چکی ہے۔
فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کرنے سے قبل افغان حکومت، نیٹو اور آئیسف کو اعتماد میں لیا گیا تھا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ افغان حکومت نے کوئی تعاون نہیں کیا۔
عاصم باجوہ نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران اب تک 1100 کے قریب دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جبکہ خیبر ایجنسی میں 40 سے زائد شدت پسند ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں 100 سے زائد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو حکومت کے حوالے کیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کے دوران 132 ٹن بارودی مواد اور ہزاروں کی تعداد میں ہتھیار اور دیگر جنگی سازوسامان برآمد کیا گیا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ بھارت کی سرحد پر کشیدگی کے باوجود قبائلی علاقوں میں فوج کی تعداد میں کمی نہیں جائے گی۔
شمالی وزیرستان سے شدت پسندوں نے افغان علاقوں میں پناہ لی ہے
on
اکتوبر 29, 2014

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں