واہگہ بارڈر پر خودکش حملہ، ہلاکتوں کی تعداد 59 ہوگئی
پاکستان اور بھارت کو ملانے والی لاہور کے قریب واہگہ کی سرحدی راہداری کے قریب اتوار کی شام ہونے والے خودکش بم حملے میں ہلاکتوں کی 59 ہوگئی جبکہ واہگہ پر پرچم اتارنےکی تقریب کو عام لوگوں کے لیے تین دن کے لیے بند کر دیا۔
پنجاب پولیس کی ترجمان نبیلہ غضنفر کے مطابق اس خود کش حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن کی تعداد سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ریجنرز کے تین اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کے دفتر فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ تنظیم قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سرگرم ہے۔
پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق سکھیرا نے مقامی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے اِس بات کی تصدیق کی کہ دھماکہ خود کش تھا۔
یہ خود کش دھماکہ واہگہ سرحد پر پرچم اتارنےکی تقریب کے ختم ہونے کے تھوڑی دیر بعد اس وقت ہوا جب لوگ تقریب سے واپس کار پارکنگ میں پہنچے جہاں خودکش حملہ آور موجود تھا۔
یاد رہے کہ اس تقریب کو دیکھنے کے لیے سرحد کے دونوں طرف ہزاروں لوگ جمع ہوتے ہیں اور اتوار کے دن یہ لوگوں کی تفریح کی ایک اہم جگہ ہوتی ہے۔
ڈی جی رینجرز پنجاب خان طاہر خان نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خود کش حملہ آور کے جسم کے کچھ حصے بھی ملے ہیں مگر اس کا سر ابھی تک نہیں ملا ہے۔
ڈی رینجرز طاہر خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پرچم اتارنے کی تقریب کے ختم ہونے کے آدھے گھنٹے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ انھوں نے بتایا کہ یہ دھماکہ پرچم اتارنے کی تقریب کے مقام سے پانچ سو سے چھ سو گز کی دوری پر ہوا۔
ڈی جی رینجرز کے مطابق دھماکے میں تین رینجرز اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ دھماکہ اس مقام پر ہوتا جہاں پر پریڈ ہوتی ہے تو بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خطرہ تھا کیونکہ بقول ان کے پریڈ دیکھنے کے لیے سات سے آٹھ ہزار افراد موجود ہوتے ہیں۔
لاہور سے نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق کہ پنجاب حکومت نے خود کش حملے میں ہلاک والوں کے لواحقین کےلیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔صوبائی حکومت نے خود کش دھماکے میں ہلاک ہونے والے شخص کے لواحقین کو پانچ لاکھ، جبکہ ہر زخمی کے لیے 75 ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
ابتدائی طور پر یہ اطلاعات تھیں کہ واہگہ بارڈر پر موجود ایک ہوٹل میں سلنڈر کے پھٹنے سے دھماکہ ہوا۔
سی آئی ڈی کے سربراہ افتخار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں لاہور کے کنٹونمنٹ کے علاقے اور رائے ونڈ میں ایسے کسی ممکنہ حملے کی اطلاعات تھیں اور اس کے علاوہ نو دس محرم کے حوالے سے بھی سکیورٹی خدشات موجود تھے لیکن کسی عوامی مقام پر حملے سے متعلق انھیں کوئی پیشگی اطلاعات نہیں تھیں۔
انھوں نے بتایا اس مقام کی سکیورٹی رینجرز کے پاس ہوتی ہے اور قانون نافذ کرنے کے دوسرے ادارے اتنے فعال نہیں ہوتے۔
واقعہ کے بعد لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گی ہے جبکہ شہر میں سکیورٹی بڑھا دی گی ہے۔
مقامی گھرکی ہسپتال میں لاشوں کو رکھنے کی جگہ نہ ہونے باعث لاشیں پارکنگ کے احاطے میں رکھی گئیں۔ لاہور کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
واہگہ بارڈر پر خودکش حملہ، ہلاکتوں کی تعداد 59 ہوگئی
on
نومبر 02, 2014

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں